Middle east war
ایران دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے۔
ہخامنشی سلطنت (Achaemenid Empire): سائرس اعظم (Cyrus the Great) نے تقریباً 2500 سال پہلے اس عظیم سلطنت کی بنیاد رکھی۔ یہ انسانی حقوق کا پہلا منشور دینے والی ریاست کہلاتی ہے۔
اسلامی فتوحات: 7ویں صدی (تقریباً 1400 سال پہلے) میں عربوں نے ساسانی سلطنت کو شکست دے کر ایران میں اسلام متعارف کرایا۔ تاہم، ایرانیوں نے اپنی زبان (فارسی) اور ثقافت کو برقرار رکھا۔
صفوی خاندان: 16ویں صدی میں صفویوں نے شیعہ اسلام کو سرکاری مذہب بنایا، جس سے ایران کی ایک منفرد مذہبی اور سیاسی شناخت بنی۔
2. دشمنی کی اصل وجہ (1979 کا انقلاب)
امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کی دشمنی 1400 سال پرانی نہیں، بلکہ صرف 45 سال پرانی ہے:
1979 سے پہلے: شاہِ ایران کے دور میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے گہرے تعلقات تھے۔ ایران نے اسرائیل کو تسلیم کر رکھا تھا۔
اسلامی انقلاب (1979): امام خمینی کی قیادت میں انقلاب آیا جس نے شاہ کو بے دخل کر دیا۔ نئی حکومت نے امریکہ کو "بڑا شیطان" اور اسرائیل کو فلسطین پر قبضے کی وجہ سے دشمن قرار دے دیا۔
3. ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگی صورتحال
ان تینوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی کے تین بڑے پہلو ہیں:
نیوکلیئر پروگرام: اسرائیل اور امریکہ کو خدشہ ہے کہ ایران ایٹم بم بنا رہا ہے، جبکہ ایران اسے پُرامن مقاصد کے لیے بتاتا ہے۔
پراکسی وار (Proxy War): ایران مشرقِ وسطیٰ میں حزب اللہ (لبنان)، حماس (فلسطین) اور حوثیوں (یمن) کی حمایت کرتا ہے، جو اسرائیل اور امریکی مفادات کے خلاف لڑتے ہیں۔
سائبر اور فضائی حملے: حالیہ برسوں میں اسرائیل نے ایران کے اندر کئی میزائل حملے اور سائبر حملے کیے ہیں، جس کے جواب میں ایران نے بھی براہِ راست اسرائیل پر ڈرون اور میزائل داغے ہیں۔
4. موجودہ حالات (2025-2026)
جیسا کہ حالیہ خبروں سے ظاہر ہے:
فروری 2026 میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے ایٹمی مراکز پر بڑے حملے کیے ہیں۔
Comments
Post a Comment